MOJ E SUKHAN

سوا غیر کے تیرا چارہ نہ تھا

سوا غیر کے تیرا چارہ نہ تھا
مرا بھی ترے بن گزارہ نہ تھا

ترا شوق تھا صرف شہرت تری
مری آبرو کو گوارہ نہ تھا

ذرا یاد ہو ہاتھ تھا ماتھا ترا
مگر تم سے مانگا سہارا نہ تھا

سفر پر تھے ہم ایک جیسے مگر
تجھے زندگی نے پکارا نہ تھا

میں مہ تاب تھا زندگی میں تری
مگر آنکھ کا تیری تارا نہ تھا

ماہتاب دستی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم