MOJ E SUKHAN

سورج سارا شہر ڈراتا رہتا ہے

سورج سارا شہر ڈراتا رہتا ہے
پتھریلی سڑکوں پہ دریا پیاسا ہے

نیند ہماری بھیڑ میں ہنستی رہتی ہے
جنگل اپنی خاموشی میں الجھا ہے

دھرتی اور آکاش کی دنیا میں جیون
دو طوفانوں میں قیدی کشتی سا ہے

ہوا پرندوں کو لے کر کس دیس گئی
میدانوں میں پیڑوں کا سناٹا ہے

راتوں کی سرگوشی بنتی ہوں انجمؔ
خوابوں میں بادل سا اڑتا رہتا ہے

تنویر انجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم