MOJ E SUKHAN

سونا چاندی ہی نہ لائے ہو نہ گوہر لائے

غزل

سونا چاندی ہی نہ لائے ہو نہ گوہر لائے
جا کے تم چاند سے لائے بھی تو پتھر لائے

کون سا کام ہے دشوار تصور کے لئے
یہ اگر چاہے تو چلو میں سمندر لائے

وقت کیا شے ہے خدایا تری رحمت کیا شے
لوگ کہتے ہیں کہ ہر چیز مقدر لائے

اور کچھ بھی تو نہیں پاس دعاؤں کے سوا
ہم ترے واسطے جو بھی تھا میسر لائے

عشق میں جان کا دینا بھی عبث باتیں ہیں
عشق میں توڑ کے کوئی بھی نہ اختر لائے

فائدے ہم ہی اٹھا پائے نہ رب تو ورنہ
اپنے بندوں کے لئے سینکڑوں اوسر لائے

پیار کچھ اور ہی ہے چیز اطاعت کچھ اور
جو محبت سے ملے وہ نہ تکبر لائے

یوں تو گن گان ترے ہوتے ہیں گھر گھر لیکن
کوئی اب گھر میں نہ باپو ترے بندر لائے

گو تمہاری بھی غزل عمدہ ہے پروازؔ مگر
آج کچھ شعرا غزل تم سے بھی بہتر لائے

درشن دیال پرواز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم