غزل
سونا چاندی ہی نہ لائے ہو نہ گوہر لائے
جا کے تم چاند سے لائے بھی تو پتھر لائے
کون سا کام ہے دشوار تصور کے لئے
یہ اگر چاہے تو چلو میں سمندر لائے
وقت کیا شے ہے خدایا تری رحمت کیا شے
لوگ کہتے ہیں کہ ہر چیز مقدر لائے
اور کچھ بھی تو نہیں پاس دعاؤں کے سوا
ہم ترے واسطے جو بھی تھا میسر لائے
عشق میں جان کا دینا بھی عبث باتیں ہیں
عشق میں توڑ کے کوئی بھی نہ اختر لائے
فائدے ہم ہی اٹھا پائے نہ رب تو ورنہ
اپنے بندوں کے لئے سینکڑوں اوسر لائے
پیار کچھ اور ہی ہے چیز اطاعت کچھ اور
جو محبت سے ملے وہ نہ تکبر لائے
یوں تو گن گان ترے ہوتے ہیں گھر گھر لیکن
کوئی اب گھر میں نہ باپو ترے بندر لائے
گو تمہاری بھی غزل عمدہ ہے پروازؔ مگر
آج کچھ شعرا غزل تم سے بھی بہتر لائے
درشن دیال پرواز