MOJ E SUKHAN

سوچا ہے آئنے کو کبھی رو بہ رو کروں

سوچا ہے آئنے کو کبھی رو بہ رو کروں
اپنا مزاج پوچھوں ذرا گفتگو کروں

سنتا نہیں ہے کوئی دلِ نامراد کی
خود سے ہی اپنے دل کی کوئی آرزو کروں

تنہائیوں میں چپ کا قفل توڑ دوں ذرا
خود سے لگاؤں محفلیں میں اور تُو کروں

ہر گام زندگی میں ضرورت کسی کی ہے
کب تک میں اپنے دل کا بھلا اب لہو کروں

خاور یہ قیدِ زندگی کٹ جائے گی سبھی
اب اس سے میں رہائی کی کیا جستجو کروں

خاور کمال صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم