سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولو
پھر چپ کا حسن دیکھو بے کار لب نہ کھولو
۔
نوحہ کناں ہواؤ شعلہ بہ جاں فضاؤ
دیکھو وہ جا رہا ہے جی بھر کے اس کو رو لو
۔
ڈالے رہیں بسیرے خوابوں بھرے اندھیرے
محلوں کی آس رکھو کٹیا کے پٹ نہ کھولو
۔
کوندے لپک رہے ہیں جذبے چمک رہے ہیں
صدیاں بلک رہی ہیں لمحوں کو یوں نہ رولو
۔
ہر فاصلہ بڑا ہے ہر مرحلہ کڑا ہے
سورج اگر ہے پیچھے سائے کے ساتھ ہو لو
۔
گل ہوں بکھر نہ جاؤں پل ہوں گزر نہ جاؤں
تکمیل کر لو اپنی آغوش میں سمو لو
۔
دنیا فقط گماں ہے سب کچھ درون جاں ہے
جاگو ضرور خالدؔ آنکھیں مگر نہ کھولو
خالد احمد