MOJ E SUKHAN

سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولو

سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولو

پھر چپ کا حسن دیکھو بے کار لب نہ کھولو

۔

نوحہ کناں ہواؤ شعلہ بہ جاں فضاؤ

دیکھو وہ جا رہا ہے جی بھر کے اس کو رو لو

۔

ڈالے رہیں بسیرے خوابوں بھرے اندھیرے

محلوں کی آس رکھو کٹیا کے پٹ نہ کھولو

۔

کوندے لپک رہے ہیں جذبے چمک رہے ہیں

صدیاں بلک رہی ہیں لمحوں کو یوں نہ رولو

۔

ہر فاصلہ بڑا ہے ہر مرحلہ کڑا ہے

سورج اگر ہے پیچھے سائے کے ساتھ ہو لو

۔

گل ہوں بکھر نہ جاؤں پل ہوں گزر نہ جاؤں

تکمیل کر لو اپنی آغوش میں سمو لو

۔

دنیا فقط گماں ہے سب کچھ درون جاں ہے

جاگو ضرور خالدؔ آنکھیں مگر نہ کھولو

خالد احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم