MOJ E SUKHAN

سو دنیا میں جینا بسنا دل کو مرنے مت دینا

غزل

سو دنیا میں جینا بسنا دل کو مرنے مت دینا
یار کرایہ دار کو گھر پر قبضہ کرنے مت دینا

جاب ضروری ہوتی ہے صاحب مجبوری ہوتی ہے
جاب کے گھن چکر میں پڑ کر خواب بکھرنے مت دینا

ایسی لہریں ایسی بحریں کب قسمت سے ملتی ہیں
اچھے مانجھی اب نیا کو پار اترنے مت دینا

ایک دفعہ کا ذکر ہے دونوں اک لاہور میں یکجا تھے
ایک دفعہ کا ذکر ہے اس کو کبھی مکرنے مت دینا

مال پہ رش کافی ہوگا بس ایک دو کش کافی ہوگا
اب کسی کار کو کسی سوار کو سر سے گزرنے مت دینا

مردہ نعرے لگانے والے زندہ گوشت جلا سکتے ہیں
اس بے انت ہجوم کو خود سے زیادہ ڈرنے مت دینا

ادریس بابر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم