MOJ E SUKHAN

سپولے جوگیوں نے اس لیے کِیلے نہیں ہوں گے

سپولے جوگیوں نے اس لیے کِیلے نہیں ہوں گے
سمجھتے تھے کہ یہ حشرات زہریلے نہیں ہوں گے

جو چبھتے ہی نہ ہوں ان کو بھی کوئی خار کہتا ہے
اگر ہیں خار تو کیا خار نوکیلے نہیں ہوں گے

ہم ایسے لوگ جو پل پل غموں کا زہر پیتے ہیں
تو جانِ من ! ہمارے جسم کیا نیلے نہیں ہوں گے

مجھے سیراب کرنے کا ارادہ ملتوی کر دے
ترے دریا سے میرے ہونٹ بھی گیلے نہیں ہوں گے

یہ ریگستان کا طوفاں بڑا من زور ہوتا ہے
اگر تاخیر سے لوٹے تو یہ ٹیلے نہیں ہوں گے

رانا سعید دوشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم