MOJ E SUKHAN

سچائی کبھی اپنی صفائی نہیں دیتی

غزل

سچائی کبھی اپنی صفائی نہیں دیتی
محسوس تو ہوتی ہے دکھائی نہیں دیتی

مظلوموں کی فریاد پہ لرزاں ہے فلک تک
اور اہل سیاست کو سنائی نہیں دیتی

یوں ظلم و تشدد کے اندھیرے ہیں کہ توبہ
جینے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی

ہنس ہنس کے ستم فاقوں کے سہہ لیتی ہے لیکن
خوددار غریبی تو دہائی نہیں دیتی

دل ساگر افکار میں ڈوبا ہو تو عالمؔ
کانوں کو مزہ نغمہ سرائی نہیں دیتی

عالم نظامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم