MOJ E SUKHAN

سچ زبانوں پر ہو تو شانوں پہ سر رہتے نہیں

سچ زبانوں پر ہو تو شانوں پہ سر رہتے نہیں
پتھروں کے شہر میں شیشے کے گھر رہتے نہیں

چھوڑ کر مجھ کو چلا ہے تو پتا ہو گا اُسے
ریگ زاروں میں کبھی نازک شجر رہتے نہیں

چند لمحوں کے لیے ملنا ہے بس ان کا نصیب
دیر تک شب اور سورج ہم سفر رہتے نہیں

کوئی کتنا بھی ہو پیارا، ہو ہی جاتا ہے جدا
زخم جتنے بھی ہوں گہرے، عمر بھر رہتے نہیں

اُس کی آندھی کی طرح فطرت بڑی پُر جوش تھی
ایسے موسم میں دیے ہوں یا شرر، رہتے نہیں

یا تو ہو جاؤ مرے یا چھوڑ دو میرا خیال
درمیانے سے مراسم معتبر رہتے نہیں

توڑ لینا شاخ سے خود اُن کو بہتر ہے نعیم
دیر تک پک کر درختوں پر ثمر رہتے نہیں

محمد نعیم جاوید نعیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم