MOJ E SUKHAN

سکوں تھوڑا سا پایا دھوپ کے ٹھنڈے مکانوں میں

غزل

سکوں تھوڑا سا پایا دھوپ کے ٹھنڈے مکانوں میں
بہت جلنے لگا تھا جسم برفیلی چٹانوں میں

کب آؤ گے یہ گھر نے مجھ سے چلتے وقت پوچھا تھا
یہی آواز اب تک گونجتی ہے میرے کانوں میں

جنازہ میری تنہائی کا لے کر لوگ جب نکلے
میں خود شامل تھا اپنی زندگی کے نوحہ خوانوں میں

مری محرومیاں جب پتھروں کے شہر سے گزریں
چھپایا سر تری یادوں کے ٹوٹے سائبانوں میں

مجھے میری انا کے خنجروں نے قتل کر ڈالا
بہانہ یہ بھی اک بے چارگی کا تھا بہانوں میں

تماشہ ہم بھی اپنی بے بسی کا دیکھ لیتے ہیں
تری یادوں کے پھولوں کو سجا کر پھول دانوں میں

زمیں پیروں کے چھالے روز چن لیتی ہے پلکوں سے
تخیل روز لے اڑتا ہے مجھ کو آسمانوں میں

میں اپنے آپ سے ہر دم خفا رہتا ہوں یوں آزرؔ
پرانی دشمنی ہو جس طرح دو خاندانوں میں

کفیل آزر امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم