MOJ E SUKHAN

سکوں پایا طبیعت نے نہ دل کو ہی قرار آیا

سکوں پایا طبیعت نے نہ دل کو ہی قرار آیا
جو آنسو آنکھ میں آیا بڑا بے اعتبار آیا

کسی کا بانکپن سارے زمانے میں پکار آیا
چمک آنکھوں میں آئی نوک مژگاں پر نکھار آیا

مقدر اپنا اپنا ہے گل‌ و شبنم کی وادی میں
کوئی ہنستا ہوا آیا تو کوئی اشک بار آیا

مجھے کیا واسطہ ہے آپ کے حسن تخیل سے
مری آنکھوں پہ جب آیا مرے خوابوں کو پیار آیا

تری بے التفاتی کو خدا رکھے کہ اے ساقی
شراب غم سے ہم تشنہ لبوں پر بھی خمار آیا

ہوئے ہیں رنگ و بو دست و گریباں ایسے گلشن میں
نسیم صبح کا دامن بھی ہو کر تار تار آیا

دھواں جو بے کسوں کی آہ کا اٹھا تو اے جنبشؔ
چمن والے پکار اٹھے کہ وہ ابر بہار آیا

جنبش خیر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم