MOJ E SUKHAN

سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا

غزل

سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا
یہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کا

یہاں سے گزرے ہیں گزریں گے ہم سے اہل وفا
یہ راستہ نہیں پرچھائیوں کے چلنے کا

کہیں نہ سب کو سمندر بہا کے لے جائے
یہ کھیل ختم کرو کشتیاں بدلنے کا

بگڑ گیا جو یہ نقشہ ہوس کے ہاتھوں سے
تو پھر کسی کے سنبھالے نہیں سنبھلنے کا

زمیں نے کر لیا کیا تیرگی سے سمجھوتا
خیال چھوڑ چکے کیا چراغ جلنے کا

شہریار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم