MOJ E SUKHAN

سیر کرنے سے ہوا لینے سے

سیر کرنے سے ہوا لینے سے
کام ہے دل کو مزہ لینے سے

دھوپ سائے کی طرح پھیل گئی
ان درختوں کی دعا لینے سے

اس طرح حال کوئی چھپتا ہے
اس طرح زخم چھپا لینے سے

کوئی مقبول دعا ہوتی ہے
صرف ہاتھوں کو اٹھا لینے سے

میرے جیسا وہ نہیں ہو سکتا
میرا انداز چرا لینے سے

رات کچھ اچھی گزر جاتی ہے
چاند کو چھت پہ بلا لینے سے

وقت بے وقت کا آزار ملا
وقت کو ساتھ لگا لینے سے

آج بھی نام وہی ہے اپنا
کیا ہوا نام کما لینے سے

کاشف حسین غائر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم