MOJ E SUKHAN

سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا

غزل

سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا
اب کیا کروں علاج دل داغدار کا

اس سے مجھے ملاؤ کہ مرتا ہوں ہجر میں
باعث ہے زندگی کا مری وصل یار کا

صیاد اب تو چھوڑ دے آتی ہے فصل گل
دیکھوں گا ہائے کیوں کہ تماشا بہار کا

شاید تمہارے دیں میں ہے اے دلبرو روا
دل چھین لینا عاشق سینہ فگار کا

شبنم نہیں ہے برگ کے اوپر چمن کے بیچ
آصفؔ گرا ہے اشک کسی بے قرار کا

آصف الدولہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم