MOJ E SUKHAN

شام اپنی بے مزا جاتی ہے روز – Sham apni be maza jati hai roz

شام اپنی بے مزا جاتی ہے روز
اور ستم یہ ہے کہ آ جاتی ہے روز

کوئی دن آساں نہیں جاتا مرا
کوئی مشکل آزما جاتی ہے روز

مجھ سے پوچھے کوئی کیا ہے زندگی
میرے سر سے یہ بلا جاتی ہے روز

جانے کس کی سرخ روئی کے لیے
خوں میں یہ دھرتی نہا جاتی ہے روز

گیت گاتے ہیں پرندے صبح و شام
یا سماعت چہچہا جاتی ہے روز

دیکھنے والوں کو اجملؔ زندگی
رنگ کتنے ہی دکھا جاتی ہے روز

اجمل سراج

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم