MOJ E SUKHAN

شام دل کو بجھائے جاتی ہے

غزل

شام دل کو بجھائے جاتی ہے
تیری باتیں سنائے جاتی ہے

یہ اداسی بھی خوب صورت ہے
مجھ کو رنگیں بنائے جاتی ہے

رات کی آنکھ سے اسے دیکھو
کیسے منظر دکھائے جاتی ہے

ایک لمحے کی روشنی مجھ میں
ایک دنیا بسائے جاتی ہے

کتنی گمبھیر ہے یہ تاریکی
میرے اندر سمائے جاتی ہے

ہجر کی شب ہماری جانب کیوں
دیکھ کر مسکرائے جاتی ہے

زندگی بے وفا سہی لیکن
ساتھ پھر بھی نبھائے جاتی ہے

آپ تعبیر جانتے ہوں گے
چاندنی بوکھلائے جاتی ہے

کوئی خوشبو گریزاں ہے مجھ سے
کوئی آہٹ بلائے جاتی ہے

زندگی لاڈلی سی شہزادی
میرا آنچل اڑائے جاتی ہے

عاصمہ طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم