MOJ E SUKHAN

شاید ابھی کمی سی مسیحائیوں میں ہے

شاید ابھی کمی سی مسیحائیوں میں ہے
جو درد ہے وہ روح کی گہرائیوں میں ہے

جس کو کبھی خیال کا پیکر نہ مل سکا
وہ عکس میرے ذہن کی رعنائیوں میں ہے

کل تک تو زندگی تھی تماشا بنی ہوئی
اور آج زندگی بھی تماشائیوں میں ہے

ہے کس لیے یہ وسعت دامان التفات
دل کا سکون تو انہی تنہائیوں میں ہے

یہ دشت آرزو ہے یہاں ایک ایک دل
تجھ کو خبر بھی ہے ترے سودائیوں میں ہے

تنہا نہیں ہے اے شب گریاں دئیے کی لو
یادوں کی ایک شام بھی پرچھائیوں میں ہے

گلنارؔ مصلحت کی زباں میں نہ بات کر
وہ زہر پی کے دیکھ جو سچائیوں میں ہے

گلنار آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم