MOJ E SUKHAN

شبنم جو ملے خواہشِ دریا نہیں کرتے

شبنم جو ملے خواہشِ دریا نہیں کرتے
ہم حد سے کبھی بڑھ کے تمنا نہیں کرتے

آنکھوں کے جزیروں میں بھی پانی نہیں ملتا
پیاسے ہیں مگر کوئی تقاضا نہیں کرتے

ہم راکھ ہوئے آتشِ خاموش میں جن کی
حیرت ہے کہ وہ لوگ تماشا نہیں کرتے

سیراب کرو دل کو اب اشکوں سے کہ بادل
اس خشک زمیں پر کبھی برسا نہیں کرتے

رنگ ِ گل و لالہ سے دہک اُٹھا ہے گلشن
ہم چاکِ قفس سے بھی نظارا نہیں کرتے

کچھ ایسے یقیں اُٹھ گیا اب اہلِ جہاں سے
غیروں کا تو کیا خود پہ بھروسہ نہیں کرتے

تنہائی میں دل کھول کے رو لیتے ہیں ورنہ
محفل میں تو ہم ذکر بھی تیرا نہیں کرتے

(محسن احسان)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم