شبیر تیرے غم میں جو پل پھر کو رو گیا
سمجھو وہ عام شخص پھی اب خاص ہوگیا
پوچھا خدایا! اور کوئی امتحان ہے؟
پروردگار پل کو تو ششدر سا ہوگیا
کتنا عظیم تھا وہ محمد”ص“ کا نورِ عین
اپنے لہو سے داغ زمانے کے دھو گیا
حق اس کے باپ دادا کے قدموں کا مقتدی
باطل ہے ان کے آنے سے گھبرا کے جو گیا
عباسِ باوفا کو ہو اپنا سلام جو
قلب و نظر میں بیج وفاؤں کے بو گیا
اے کربلا! تجھ کو بھی وہ مہمان یاد ہیں؟
بے آب جو فرات کے پہلو میں سو گیا
فاخرہ بتول