MOJ E SUKHAN

شبیر تیرے غم میں جو پل پھر کو رو گیا

شبیر تیرے غم میں جو پل پھر کو رو گیا
سمجھو وہ عام شخص پھی اب خاص ہوگیا

پوچھا خدایا! اور کوئی امتحان ہے؟
پروردگار پل کو تو ششدر سا ہوگیا

کتنا عظیم تھا وہ محمد”ص“ کا نورِ عین
اپنے لہو سے داغ زمانے کے دھو گیا

حق اس کے باپ دادا کے قدموں کا مقتدی
باطل ہے ان کے آنے سے گھبرا کے جو گیا

عباسِ باوفا کو ہو اپنا سلام جو
قلب و نظر میں بیج وفاؤں کے بو گیا

اے کربلا! تجھ کو بھی وہ مہمان یاد ہیں؟
بے آب جو فرات کے پہلو میں سو گیا

فاخرہ بتول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم