MOJ E SUKHAN

شب مہتاب بھی اپنی بھری برسات بھی اپنی

شب مہتاب بھی اپنی بھری برسات بھی اپنی
تمہارے دم قدم سے زندگی تھی زندگی اپنی

یہاں پابندی، ناراضی، جنونی بات ہے ورنہ
جمال یار سے کچھ کم نہیں تابندگی اپنی

مجھے شادابیٔ صحن چمن سے خوف آتا ہے
یہی انداز تھے جب لوٹ گئی تھی زندگی اپنی

تمہارا غم اسے آشوب صرصر بچائے گا
ہواؤں سے بھڑک اٹھی ہے شمع زندگی اپنی

مگر تم بھی تو اک بوئے گریزاں کی طرح نکلے
گزرنے کو گزر جاتی بہار دوستی اپنی

ظہیرؔ اس چشم اول پہ یوں ہی محسوس ہوتا ہے
بڑی مدت سے ہے جیسے کسی سے دوستی اپنی

ظہیر کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم