MOJ E SUKHAN

شب کی آغوش میں جاگا ہوا گھر کس کا ہے

غزل

شب کی آغوش میں جاگا ہوا گھر کس کا ہے
اس پہ آسیب نہیں ہے تو اثر کس کا ہے

ایسا سیلاب کہ جنگل کو بہا لے جائے
ایسے سیلاب میں بے برگ شجر کس کا ہے

انگلیوں میں اتر آئے ہیں بصارت کے رموز
تیرگی میں رہے مخفی یہ ہنر کس کا ہے

بے چراغی ہی رہی اپنے گھروں کی میراث
روشنی پوچھتی پھرتی ہے کہ در کس کا ہے

وہ مسافر تو گیا چھوڑ کے یادیں اپنی
کس کو بتلاؤں کہ یہ زاد سفر کس کا ہے

تم مری راہ سے ہو کر نہیں گزرے ہو تو پھر
نقش پا یہ طرف راہ گزر کس کا ہے

پھر سے مدہوش تمنا کے ہوئے ہوش بجا
ہم پہ عابدؔ یہ کرم بار دگر کس کا ہے

عابد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم