MOJ E SUKHAN

شب کی تاریک راہداری ہے

غزل

شب کی تاریک راہداری ہے
اور مرا خوف اضطراری ہے

سبز خوابوں کی کم سے کم قیمت
زندگی بھر کی اشک باری ہے

اک مسلط شدہ تمدن کو
یہ نہ کہیے کہ اختیاری ہے

شش جہاتی مشاہدہ ہے میاں
تجربوں کی سند پہ بھاری ہے

شکریہ آپ کی محبت کا
دل کا مقسوم سوگواری ہے

تجزیے سن کے مسکرا دینا
اپنی اتنی ہی ذمہ داری ہے

بشریٰ مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم