MOJ E SUKHAN

شجر امید بھی جل گیا وہ وفا کی شاخ بھی جل گئی

شجر امید بھی جل گیا وہ وفا کی شاخ بھی جل گئی
مرے دل کا نقشہ بدل گیا مری صبح رات میں ڈھل گئی

وہی زندگی جو بہر نفس جو بہر قدم مرے ساتھ تھی
کبھی میرا ساتھ بھی چھوڑ کر مری منزلیں بھی بدل گئی

نہ وہ آرزو ہے نہ جستجو نہ کوئی تصور رنگ و بو
لیے دل میں داغ غم خزاں میں چمن سے دور نکل گئی

تری چال پوری نہ ہو سکی ترا وار خالی چلا گیا
ذرا دیکھ گردش آسماں کہ میں گرتے گرتے سنبھل گئی

تری چاہتوں سے سنور گئے یہ مرے جمال کے آئینے
میں گلاب بن کے مہک اٹھی میں شفق کے رنگ میں ڈھل گئی

یہ طلسم موسم گل نہیں کہ یہ معجزہ ہے بہار کا
وہ کلی جو شاخ سے گر گئی وہ صبا کی گود میں پل گئی

وہی ساعت غم آرزو جو ہمیشہ دل میں بسی رہی
ہے خدا کا شکر کہ آفریںؔ وہ ہمارے سر سے تو ٹل گئی

گلنار آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم