MOJ E SUKHAN

شخصیت اس نے چمک دار بنا رکھی ہے

غزل

شخصیت اس نے چمک دار بنا رکھی ہے
ذہنیت کیا کہیں بیمار بنا رکھی ہے

اس قدر بھیڑ کہ دشوار ہے چلنا سب کا
اور اک وہ ہے کہ رفتار بنا رکھی ہے

ایک مشکل ہو تو آسان بنا لی جاے
اس نے تو زندگی دشوار بنا رکھی ہے

پاس آ جاتا ہے میں دور چلا جاؤں تو
اس نے دوری بھی لگاتار بنا رکھی ہے

ذہن اور دل میں جو ان بن ہے وہ ان بن نہ رہے
اس لیے درمیاں دیوار بنا رکھی ہے

شخص کیسا ہے وہ کیا ہے نہیں معلوم ہمیں
شہر میں اس نے مگر دھار بنا رکھی ہے

گوند گلشن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم