MOJ E SUKHAN

شش جہت آپ کو آئیں گے نظر دو بٹا تین

شش جہت آپ کو آئیں گے نظر دو بٹا تین
چھ بٹا نو کے برابر ہے اگر دو بٹا تین

دو کھلونے جو کبھی ہم نے تپائی پہ دھرے
آ گئے صاف مہندس کو نظر دو بٹا تین

طالب خیر نہ ہوں گے کبھی انسان سے ہم
نام اس کا ہے بشر اس میں ہے شر دو بٹا تین

منحصر قوت بازو پہ ہے دولت مندی
دیکھ لو زور میں موجود ہے زر دو بٹا تین

ملک الموت سے دنیا میں ہراساں نہیں کون
جس کو کہتے ہیں نڈر اس میں ہے ڈر دو بٹا تین

بیسویں رات مہینے کی جب آ جاتی ہے
غم میں رہ جاتا ہے گھل گھل کے قمر دو بٹا تین

ظالمو خوف کرو آہ کو سمجھو نہ حقیر
لفظ اللہ میں ہے اس کا اثر دو بٹا تین

کھوٹی منزل کئے دیتی ہے تری یاد ندیم
راہ رو کا ابھی باقی ہے سفر دو بٹا تین

دو بٹا تین کی رکھی ہے جو اے جوشؔ ردیف
شعر بھی نکلے ہیں مقبول نظر دو بٹا تین

جوش ملسیانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم