MOJ E SUKHAN

شطرنج کی بساط کی صورت الٹ گیا

غزل

شطرنج کی بساط کی صورت الٹ گیا
آندھی چلی تو ریت کے ذروں میں بٹ گیا

شہزادہ میری ذات کا باہر نہ آ سکا
کم بخت مفلسی کی ردا میں لپٹ گیا

میری نگاہیں جس کا احاطہ نہ کر سکیں
وہ کیمرے کی آنکھ میں کیسے سمٹ گیا

دیوار منہدم جو ہوئی انفعال سے
سائے کا قد بھی ایک ہی جھٹکے میں گھٹ گیا

چبھتی تھیں جس کو چاند کی کرنوں کی ٹھنڈکیں
وحشت میں چلتی ریل کے پہیوں سے کٹ گیا

پایا جو لمسٍ چہرۂٍ انسان آنکھ نے
میں آئینے کے جسم سے زاہد لپٹ گیا

زاہد حسین جوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم