MOJ E SUKHAN

شعر جب کھلتا ہے کھلتے ہیں معانی کیا کیا

غزل

شعر جب کھلتا ہے کھلتے ہیں معانی کیا کیا
راستے دیتے ہیں اک مصرعۂ ثانی کیا کیا

ختم ہوتی ہے سمندر پہ کبھی صحرا میں
راستے چنتی ہے دریا کی روانی کیا کیا

پہلے کردار گزرتا ہے نظر سے کوئی
موڑ لیتی ہے پھر آنکھوں میں کہانی کیا کیا

اشک آنکھوں میں کسک دل میں نظر میں امید
عشق دیتا ہے محبت میں نشانی کیا کیا

جان لیتا ہے کبھی جان بچا لیتا ہے
فطرتیں رکھتا ہے دریاؤں کا پانی کیا کیا

اس کی آنکھوں کی شرارت کبھی ہونٹوں کا جمال
سامنے آتی ہیں تصویریں پرانی کیا کیا

گوند گلشن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم