MOJ E SUKHAN

شور دریا ہے کہانی میری

غزل

شور دریا ہے کہانی میری
پانی اس کا ہے روانی میری

کچھ زیادہ ہی بھلی لگتی ہے
مجھ کو تصویر پرانی میری

جب بھی ابھرا ترا مہتاب خیال
کھل اٹھی رات کی رانی میری

بڑھ کے سینے سے لگا لیتا ہوں
جیسے ہر غم ہو نشانی میری

مہرباں مجھ پہ ہے اک شاخ گلاب
کیسے مہکے نہ جوانی میری

پھر ترے ذکر کی سرسوں پھولی
پھر غزل ہو گئی دھانی میری

کچھ تو اعمال برے تھے اپنے
کچھ ستاروں نے نہ مانی میری

لکھی جائے گی ترے برف کے نام
جو تمنا ہوئی پانی میری

تم نے جو بھی کہا میں نے مانا
تم نے اک بات نہ مانی میری

مختصر بات تھی جلدی بھی تھی کچھ
اس پہ کچھ زود بیانی میری

باقر نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم