MOJ E SUKHAN

شور یونہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا

شور یونہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا

پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو ہو گا
جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا

بانیِ جشنِ بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیں
کس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا

بجلی کے تار پہ بیٹھا ہوا ہنستا پنچھی
سوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا

اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسے پیاسے
ہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا

کیفی اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم