MOJ E SUKHAN

شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے

شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے
میں کہاں جاتا ہوں کوئی لیے جاتا ہے مجھے

جلوہ کس آئینہ رو کا ہے نگاہوں میں کہ پھر
دل حیرت زدہ آئینہ بناتا ہے مجھے

عاشقی شیوہ لڑکپن سے ہے اپنا ناصح
کیا کروں میں کہ یہی کام کچھ آتا ہے مجھے

لطف کر لطف کہ پھر مجھ کو نہ دیکھے گا کبھی
یاد رکھ یاد کہ تو در سے اٹھاتا ہے مجھے

وحشتؔ اس مصرع جرأت نے مجھے مست کیا
کچھ تو بھایا ہے کہ اب کچھ نہیں بھاتا ہے مجھ

وحشت رضا علی کلکتوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم