MOJ E SUKHAN

شکایت ہم نہیں کرتے رعایت وہ نہیں کرتے

غزل

شکایت ہم نہیں کرتے رعایت وہ نہیں کرتے
مگر اس پر ستم کوئی وضاحت وہ نہیں کرتے

رواں ہو کس طرح سے چاہتوں کا کارواں اپنا
ہمیں رسوائی کا ڈر ہے بغاوت وہ نہیں کرتے

ہمی جلوہ دکھاتے ہیں ہمی شوخی نگاہوں سے
نہیں ہوتا اثر پھر بھی شرارت وہ نہیں کرتے

نظر دو چار ہو جائے تو جھک جاتی ہیں یہ پلکیں
مگر پھر بھی کوئی جذبہ عنایت وہ نہیں کرتے

صبا لے کر پیام آئے یا پھولوں کا سلام آئے
کسی بھی موسم دل سے محبت وہ نہیں کرتے

کوئی نامہ کوئی ای میل میرے نام لکھ دیں وہ
محبت میں کبھی اتنی بھی زحمت وہ نہیں کرتے

فرح اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم