شکست آج یقینی تھی مات ہوجاتی
اگر پلٹتے ہوئے اس سے بات ہو جاتی
جو لوٹتے تو تری آس ٹوٹ جانی تھی
اگر جو رکتے تو باتوں میں رات ہو جاتی
بس اک نظر مری جانب اگر اٹھی ہوتی
وہ اک گھڑی مری ساری حیات ہو جاتی
اب اس کا نام بھی سن کر عجیب لگتا ہے
تھا اشتیاق کبھی اس سے بات ہو جاتی
حیات پاتی سکوں موت کی بناہوں میں
غمِ فراق سے دل کو نجات ہو جاتی
یہ بے بسی کی کرن انتہا تھی کہنا پڑا
بچی تھی کوئی مصیبت تو ساتھ ہو جاتی
کرن رباب