MOJ E SUKHAN

شکست آج یقینی تھی مات ہوجاتی

شکست آج یقینی تھی مات ہوجاتی
اگر پلٹتے ہوئے اس سے بات ہو جاتی

جو لوٹتے تو تری آس ٹوٹ جانی تھی
اگر جو رکتے تو باتوں میں رات ہو جاتی

بس اک نظر مری جانب اگر اٹھی ہوتی
وہ اک گھڑی مری ساری حیات ہو جاتی

اب اس کا نام بھی سن کر عجیب لگتا ہے
تھا اشتیاق کبھی اس سے بات ہو جاتی

حیات پاتی سکوں موت کی بناہوں میں
غمِ فراق سے دل کو نجات ہو جاتی

یہ بے بسی کی کرن انتہا تھی کہنا پڑا
بچی تھی کوئی مصیبت تو ساتھ ہو جاتی


کرن رباب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم