MOJ E SUKHAN

شکوہ نصیب کا نہ کرے بار بار تو

غزل

شکوہ نصیب کا نہ کرے بار بار تو
مشکل حیات ہنس کے ہمیشہ گزار تو

کیوں فکر حال و ماضی کی کرتا ہے روز و شب
سب اس کو اختیار ہے بے اختیار تو

مایوس کیوں جفاؤں سے ہوتا ہے بے وجہ
سب کے گلے میں ڈال وفاؤں کے ہار تو

خوددار بن خودی کی طلب لے کے جی سدا
بے فکر اس پہ جان بھی کر دے نثار تو

وہ سر پرست ہے تو صباؔ تجھ کو ناز ہے
اپنا مقام جان لے خود کو سنوار تو

ببلس ھورہ صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم