غزل
شکوۂ دل نہیں کریں گے ہم
زرد موسم میں کھل اٹھیں گے ہم
اپنی وارفتگی نہ جائے گی
تم سے اک روز آ ملیں گے ہم
گہر آثار آبگینوں کو
گاہے حسرت سے دیکھ لیں گے ہم
خواب در خواب کچھ چراغوں میں
روشنی ڈھونڈتے رہیں گے ہم
اوڑھ لینی ہے پھر ردائے سکوت
چیخ چلا کے تھک چکیں گے ہم
بات کیونکر سمجھ نہ آئے گی
اس تیقن سے گر کہیں گے ہم
اک نظر اور دیکھ لو ہم کو
یوں دوبارہ نہیں سجیں گے ہم
بشریٰ مسعود