MOJ E SUKHAN

شکوۂ دل نہیں کریں گے ہم

غزل

شکوۂ دل نہیں کریں گے ہم
زرد موسم میں کھل اٹھیں گے ہم

اپنی وارفتگی نہ جائے گی
تم سے اک روز آ ملیں گے ہم

گہر آثار آبگینوں کو
گاہے حسرت سے دیکھ لیں گے ہم

خواب در خواب کچھ چراغوں میں
روشنی ڈھونڈتے رہیں گے ہم

اوڑھ لینی ہے پھر ردائے سکوت
چیخ چلا کے تھک چکیں گے ہم

بات کیونکر سمجھ نہ آئے گی
اس تیقن سے گر کہیں گے ہم

اک نظر اور دیکھ لو ہم کو
یوں دوبارہ نہیں سجیں گے ہم

بشریٰ مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم