MOJ E SUKHAN

شہر کا شہر لٹیرا ہے نظر میں رکھیے

شہر کا شہر لٹیرا ہے نظر میں رکھیے
اب متاع غم جاناں بھی نہ گھر میں رکھیے

کیا خبر کون سے رستے میں وہ رہزن مل جائے
اپنا سایہ بھی نہ اب ساتھ سفر میں رکھیے

اب کہیں سے نہ خریدار وفا آئے گا
اب کوئی جنس نہ بازار ہنر میں رکھیے

سر دیوار وہ خورشید بکف آیا ہے
اب چراغ دل و جاں راہ گزر میں رکھیے

شعلۂ درد لیے دل زدگاں نکلے ہیں
اب کوئی آگ نئی برق و شرر میں رکھیے

چشمۂ چشم پہ محسنؔ وہ نہانے آیا
اب سدا اس کو اسی دیدۂ تر میں رکھیے

محسن احسان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم