MOJ E SUKHAN

شیدائے تجلی ہے پروانہ جسے کہئے

شیدائے تجلی ہے پروانہ جسے کہئے
اسرار کا محرم ہے دیوانہ جسے کہئے

ساقی کی نگاہوں کا مستانہ جسے کہئے
سرشار محبت ہے دیوانہ جسے کہئے

لبریز ہیں پیمانے مخمور ہیں دیوانے
نظارہ ہے ساقی کا مے خانہ جسے کہئے

ان مست نگاہوں نے سو جام پلائے ہیں
حاصل ہے مجھے ذوق رندانہ جسے کہئے

اے ساقئ مے خانہ کچھ اور نوازش ہو
خالی ہے ابھی تک دل پیمانہ جسے کہئے

معلوم نہیں تجھ کو اے چشم تماشائی
آگاہ حقیقت ہے دیوانہ جسے کہئے

ہر گوشۂ دل میں ہے تصویر رخ جاناں
یہ دل ہے عجب کعبہ بت خانہ جسے کہئے

جس دن سے میرے دل کو آباد کیا تم نے
انوار کی جنت ہے کاشانہ جسے کہئے

دنیا کی زباں پر ہے صادقؔ میرا افسانہ
وہ بندۂ مولٰی ہوں دیوانہ جسے کہئے

صادق دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم