MOJ E SUKHAN

صاحب دلوں سے راہ میں آنکھیں ملا کے دیکھ

صاحب دلوں سے راہ میں آنکھیں ملا کے دیکھ
رکھتا ہے تو بھی دل تو اسے آزما کے دیکھ

پہچاننے کی پیار کو کوشش کبھی تو کر
خود کو کبھی تو اپنے بدن سے ہٹا کے دیکھ

یا لذتوں کو زہر سمجھ اور دور رہ
یا شعلۂ گناہ میں دامن جلا کے دیکھ

ہر چند ریگ زار سہی زندگی مگر
پل بھر کو اپنے جسم کا جادو جگا کے دیکھ

سائے کی طرح ساتھ چلے گی کوئی صدا
سنسان جنگلوں میں اکیلے بھی جا کے دیکھ

فضیل جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم