MOJ E SUKHAN

صبح امید کی اک شمع جلائی گئی تھی

غزل

صبح امید کی اک شمع جلائی گئی تھی
اس طرح مملکت جسم بچائی گئی تھی

کتنا بے فیض زمانہ تھا کہ خواہش میری
گوشۂ دل میں تڑپتی ہوئی پائی گئی تھی

مدتوں تجھ پہ لٹاتا رہا میں دولت دل
جو کسی اور کے حصے کی کمائی گئی تھی

دیکھنے والوں کی آنکھوں میں اتر آتی تھی
ایک تصویر جو کاغذ پہ بنائی گئی تھی

میرے ماتھے پہ ابھر آتے تھے وحشت کے نقوش
میری مٹی کسی صحرا سے اٹھائی گئی تھی

مجھ سے مت پوچھ شب شہر جنوں کا قصہ
خواب آتے نہیں تھے نیند اڑائی گئی تھی

چشم حیرت نے وہ دنیا بھی تو دیکھی ہے جہاں
پیاس دریاؤں کی صحرا سے بجھائی گئی تھی

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم