MOJ E SUKHAN

صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے

صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے
تجھ سے ہم آغوش ہو کر منتشر ہو جائیں گے

دھوپ صحرا تن برہنہ خواہشیں یادوں کے کھیت
شام آتے ہی غبار رہ گزار ہو جائیں گے

دشت تنہائی میں جینے کا سلیقہ سیکھئے
یہ شکستہ بام و در بھی ہم سفر ہو جائیں گے

شورش دنیا کو آہستہ روی کا حکم ہو
نذر خیر و شر ترے شوریدہ سر ہو جائیں گے

یہ جو ہیں دو چار شرفائے اودھ اختر شناس
کچھ دنوں میں یہ بھی اوراق دگر ہو جائیں گے

فضیل جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم