MOJ E SUKHAN

صبح خود بتائے گی تیرگی کہاں جائے

غزل

صبح خود بتائے گی تیرگی کہاں جائے
یہ چراغ کی جھوٹی روشنی کہاں جائے

جو نشیب آئے گا راستہ دکھائے گا
موڑ خود بتائے گا آدمی کہاں جائے

بڑھ کے دو قدم تو ہی اس کی پیٹھ ہلکی کر
یہ تھکا مسافر اے رہزنی کہاں جائے

ہاو ہو کی دنیا میں ماوتو کی دنیا میں
رنگ و بو کی دنیا میں سادگی کہاں جائے

بے تعلقی مسلک ہو چکا ہے دنیا کا
دوستی کہاں جائے دشمنی کہاں جائے

اب تو دھوپ آ پہنچی جھاڑیوں کے اندر بھی
اب پناہ لینے کو تیرگی کہاں جائے

کارواں نے چولہوں میں جھونک دی گھنی شاخیں
اب کہیں نہیں سایہ خستگی کہاں جائے

زخم دل تو کیا دو گے داغ سجدہ ہی دے دو
اب تمہاری چوکھٹ سے مظہریؔ کہاں جائے

جمیل مظہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم