MOJ E SUKHAN

صبح کے بارہ بجے رات کا مطلب سمجھے

غزل

صبح کے بارہ بجے رات کا مطلب سمجھے
کوئی اے کاش مری بات کا مطلب سمجھے

میرے بستر پہ پڑی ہیں مری بھیگی آنکھیں
اس سے کہہ دو کہ وہ برسات کا مطلب سمجھے

ایک شاعر ہوں یہی نام و نسب ہے میرا
پر یہاں کون مری ذات کا مطلب سمجھے

دیر سے ہم پہ کھلے وصف ترے شجرے کے
دیر سے ہم تری اوقات کا مطلب سمجھے

زیب تن ماں نے ہی کر رکھا ہے جدت کا لباس
بیٹی پھر کیسے روایات کا مطلب سمجھے

بد عمل جتنے ہیں وہ صاحب مسند ہیں یہاں
ایسے میں کون مکافات کا مطلب سمجھے

خطبہ زینب نے دیا جب سر دربار یزید
نا سمجھ تب کہیں سادات کا مطلب سمجھے

جس کا مقسوم صفا مروہ نہ کعبے کا طواف
کیسے واصفؔ وہ بھلا سات کا مطلب سمجھے

جبار واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم