MOJ E SUKHAN

صدیوں کو بے حال کیا تھا

غزل

صدیوں کو بے حال کیا تھا
اک لمحے نے سوال کیا تھا

مٹی میں تصویریں بھر کے
کوزہ گر نے کمال کیا تھا

باہر بجتی شہنائی نے
اندر کتنا نڈھال کیا تھا

جرم فقط اتنا تھا میں نے
اک رستے کو بحال کیا تھا

خوشبو جیسی رات نے میرا
اپنے جیسا حال کیا تھا

ایک سنہرے ہجر نے مجھ سے
کتنا سبز وصال کیا تھا

عاصمہ طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم