MOJ E SUKHAN

صرف تنکوں کے سہارے لوگو

صرف تنکوں کے سہارے لوگو
کون پہنچا ہے کنارے لوگو

جانے کیوں زخموں کی سوغات لیے
آئے ہیں پاس تمہارے لوگو

بزمِ یاراں کا تصور کیسا
سب ہیں تنہائی کے مارے لوگو

ایک ہنگامہء محشر ہے بپا
کون اب کس کو پکارے لوگو

اور کچھ روز کی ہے بات اب کے
زخم بھر جائیں گے سارے لوگو

زیست جس طرح گزاری ہم نے
کوئی اس طرح گزارے لوگو

محمود صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم