MOJ E SUKHAN

صرف ہم دونوں کو لاحق ہے یہ دوری رات میں

غزل

صرف ہم دونوں کو لاحق ہے یہ دوری رات میں
چاند ہے پورا وگرنہ اس ادھوری رات میں
ایسا لگتا تھا کہ تارے جھیل میں موجود ہیں
جب حلیمہ پانی بھرتی تھی ظہوری رات میں
صبح دم اپنے گھروں کو چل دیے بوڑھے دیے
رہ گئیں باتیں جو کرنی تھیں ضروری رات میں
سارا دن کمرے میں سورج جھانکتا ہے مستقل
کر تے ہیں ہم جگنوؤں کی جی حضوری رات میں
موت سے سیراب جاگی چشم کا اک وہم تھا
سبز رنگی ریت پھیلی تھی جو بھوری رات میں
بندھ گئی کاہے یہ ہچکی ، کاہے ترسے مورے نین
ہائے رام ایسا انرت اور ایسی نوری رات میں
کرن منتہیٰ
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم