MOJ E SUKHAN

صف ماتم پہ جو ہم ناچنے گانے لگ جائیں

صف ماتم پہ جو ہم ناچنے گانے لگ جائیں
گردش وقت! ترے ہوش ٹھکانے لگ جائیں

وہ تو وہ اس کی معیت میں گزارا ہوا پل
جو بھلائیں تو بھلانے میں زمانے لگ جائیں

مرے قادر! جو تو چاہے تو یہ ممکن ہو جائے
رفتگاں شہر عدم سے یہاں آنے لگ جائیں

بزم دنیا سے چلوں ایسا نہ ہو سب مرے یار
ایک ایک کر کے مجھے چھوڑ کے جانے لگ جائیں

خواہش وصل! ترا کیا ہو جو ہم سال بہ سال
عشرۂ سوز غم ہجر منانے لگ جائیں

ہم سمجھ پائے نہ فرتاشؔ مزاج خوباں
دل چرائیں تو کبھی آنکھیں چرانے لگ جائیں

فرتاش سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم