MOJ E SUKHAN

ضرب تازہ کاری ہے حادثہ پرانا ہے

غزل

ضرب تازہ کاری ہے حادثہ پرانا ہے
سنگ نو کے نرغے میں پھر وہی دوانہ ہے

جب سے یہ گھٹا اس کے گیسوؤں کی چھائی ہے
بجلیوں کی یورش میں تب سے آشیانہ ہے

 انتشار قالب ہے زندگی کی آزادی
روح کے پرندوں کا جسم قید خانہ ہے

کھیل ہے گزر جانا درمیان ہستی سے
اک طرف محبت ہے اک طرف زمانہ ہے

نفس کے دریچے سے دل کی دھڑکنیں گزریں
آتی جاتی سانسوں کا رقص تازیانہ ہے

دل کی بے قراری کا اضطراب کیا لکھوں
کارساز الفت کا شوق تاجرانہ ہے

آدمی کے رشتے بھی کتنے ٹوٹے پھوٹے ہیں
زندگی کی قدروں کا روپ ہی یگانہ ہے

کیا سحرؔ زمانے کا انحطاط تہذیبی
ارتقائے ہستی کا قیمتی خزانہ ہے

بدیع الزماں سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم