MOJ E SUKHAN

طبیعت آج گھبرئی بہت ہے

طبیعت آج گھبرئی بہت ہے
سر محفل بھی تنہائی بہت ہے

ہمارے دل کی ویرانی ہمیشہ
ترے گھر کھینچ کے لائی بہت ہے

اگرچہ عشق ہے گھاٹے کا سودا
مگر دل ہے کہ سودائی بہت ہے

۔بہت بیتاب ہیں گرنے کو آنسو
مگر اس میں تو رسوائی بہت ہے

ذرا اک بار پھر آواز دینا
مرے اطراف تنہائی بہت ہے ۔

اثر ہونے لگا اس گفتگو کا
خموشی نے جو سنوائی بہت ہے

ملا ہے درد کا ورثہ بھی لیکن
ہمیں یہ سرزمیں بھائی بہت ہے

میں دل سے سوچتی ہوں اور میں نے
دلوں کی بات منوائی بہت ہے

ریحانہ احسان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم