MOJ E SUKHAN

طلوع مہر نے پھولوں کی زندگی کم کی

طلوع مہر نے پھولوں کی زندگی کم کی
یہ کیا خوشی ہے کہ تقدیر کھل گئی غم کی

جلاؤ خون رخ شمع زرد ہے یارو
لگاؤ آگ کہ نکھرے تو آبرو غم کی

لبوں تک آئی ہوئی مسکراہٹوں کو نہ روک
تری بلا سے جو بڑھ جائے زندگی غم کی

نہ کر یقین کہ بیدار ہیں چمن والے
بھرے چمن میں لٹی ہے بہار شبنم کی

جنہیں شعور غم دوست راس آتا ہے
حضور دوست بھی کرتے ہیں آرزو غم کی

مری طرف سے بھی اس در پہ ایک سجدۂ شوق
جہاں خوشی کے برابر ہو آبرو غم کی

جفا شعار دعا دے مرے تبسم کو
ہزار بار بڑھا دی ہے آبرو غم کی

گزر چکا ہوں ہر اک زندگی سے میں انجمؔ
مرا کلام ہے تاریخ سارے عالم کی

انجم فوقی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم