MOJ E SUKHAN

طنز کی تیغ مجھی پر سبھی کھینچے ہوں گے

طنز کی تیغ مجھی پر سبھی کھینچے ہوں گے
آپ جب اور مرے اور نگیچے ہوں گے

آئنہ پوچھے گا جب رات کہاں تھے صاحب
اپنی بانہوں میں وہ اپنے ہی کو بھینچے ہوں گے

جس طرف چاہئے گا آپ چلے جائیے گا
سامنے چاند کے ہم آنکھوں کو میچے ہوں گے

آج پھر گزریں گے قاتل کی گلی سے ہم لوگ
آج پھر بند مکانوں کے دریچے ہوں گے

جس کی ہر شاخ پہ رادھائیں مچلتی ہوں گی
دیکھنا کرشن اسی پیڑ کے نیچے ہوں گے

اک مکاں اور بھی ہے شیش محل کے لوگو
جس میں دہلیز نہ آنگن نہ دریچے ہوں گے

تیرا دم ہے تو بہاروں کو سکوں ہے بیکلؔ
پھر ترے بعد کہاں باغ بغیچے ہوں گے

بیکل اتساہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم