MOJ E SUKHAN

طوفان کا ہواؤں کا پانی کا کیا بنا

غزل

طوفان کا ہواؤں کا پانی کا کیا بنا
کشتی بھنور میں تھی تو روانی کا کیا بنا

کردار تو شروع میں مارا گیا مگر
یہ تو بتا کے جاؤ کہانی کا کیا بنا

اس نے خبر یہ دی مرا آنگن اجڑ گیا
میں سوچتی ہوں رات کی رانی کا کیا بنا

اب پیڑ تو نہیں ہیں پرندے کہاں گئے
اور یہ کہ ان کی نقل مکانی کا کیا بنا

وہ لے گیا تھا ساتھ کنارے سمیٹ کر
دریا سے پوچھتی رہی پانی کا کیا بنا

میں آئنے میں ڈھونڈھتی رہتی ہوں رات دن
کچھ تو پتا چلے کہ جوانی کا کیا بنا

میں تو رکی نہیں تھی چلی آئی چھوڑ کر
جانے پھر اس کی تلخ بیانی کا کیا بنا

وہ جو تمہارے پاس امانت پڑی رہی
اس گنگناتی شام سہانی کا کیا بنا

سیما غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم